ادارہ  پودا کا پنجاب میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف تاریخی قانون سازی پر اظہار تحسین

جمعرات 12 فروری، 2026:    ثمینہ نذیر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ،پوٹھوہار آرگنائزیشن فار ڈویلپمنٹ ایڈوکیسی نے حکومت پنجاب کے اس تاریخی قانون سازی کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت صوبہ پنجاب میں شادی کی قانونی عمر لڑکیوں کے لیے 16 سے بڑھا کر 18 سال کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

ماضی میں پنجاب میں 1929 کے قانون کے تحت لڑکیوں کی شادی کی عمر 16 سال جبکہ لڑکوں کی 18 سال مقرر تھی، جو ایک واضح عدم مساوات تھی۔ اس فرق کی وجہ سے لڑکیاں کم عمری کی شادی، صحت کے مسائل اور تعلیم میں رکاوٹوں کا شکار ہوتی تھیں۔ نئی ترمیم کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے شادی کی قانونی عمر 18 سال مقرر کر دی گئی ہے، جو انصاف اور برابری کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔اس ترمیم کے بعد پنجاب بھی سندھ، اسلام آباد اور بلوچستان کی طرح ان علاقوں میں شامل ہو گیا ہے جہاں شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے، جو بچوں اور نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ادارہ پودا نے اپنے پراجیکٹ “صنفی مساوات کے لیے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام “کے تحت اس پیش رفت میں کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ ادارے نے وزیر قانون اور صوبائی اسمبلی کی خواتین اراکین کے ساتھ مل کر اصلاحات کے لیے کام کیا۔ نکاح رجسٹراروں کی تربیت کا انعقاد کیا تاکہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام یقینی بنائی جا سکےاور وفاقی شرعی عدالت کے 2023 کے فیصلے کے حوالے سے قانونی آگاہی بڑھانے کے لیے ضلعی بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ تعاون کیا، جس میں قرار دیا گیا تھا کہ شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں۔یہ مشترکہ کوششیں اور حکومت پنجاب کا مضبوط عزم اس اہم اصلاح کا سبب بنے۔

ادارہ پودا کی جانب سے ثمینہ نذیرنے حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے خواتین کے حقوق کو ترجیح دی اور کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ یہ فیصلہ مساوات، وقار اور لڑکیوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔

ادارہ پودا اس قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے تاکہ پنجاب کی ہر لڑکی کو تعلیم، صحت اور محفوظ مستقبل کے مواقع میسر آسکیں ۔

ادارہ پودا نے گذشتہ دسمبر 2022 سے دسمبر 2025 تک پنجاب کے 41 اضلا ع میں بھرپور کام کیا ہے جس میں نکاح خواں / نکاح رجسٹرارکی ٹریننگ، لیڈی ہیلتھ ورکرز، کمیونٹی اور ایجوکیشنکل تھیٹرز ، سکول اویئرنیس وغیرہ شامل ہیںاور اس اہم کام میں ہمیں RNEکی شراکت حاصل تھی ۔ اس کے علاوہ ادارہ PODAنے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی تھی جس میں 10 ممالک سے مذہبی اور قانونی ماہرین نے شرکت کر کے ثابت کیا کہ 18 سال کی عمر اسلامی شریعہ کے مطابق ہے جس میں لڑکیوں کی صحت اور زندگی کی حفاظت کو حفظ ِ ما تقدم رکھا جاتا ہے ، ان ممالک میںمراکش، تیونس، اُردن، سعودی عرب، عراق ، عمان، مصر ، الجزائر ، ملائیشیا، انڈونیشیا، بنگلہ  دیش اور متحدہ عرب اماراتہیں ۔ اور تمام سیاسی سماجی قائدین خاص طور پر پنجاب اسمبلی کے منتخب ارکان پنجاب اسمبلی کا بھرپور شکریہ ادا کرتے ہیں اور سپیکر پنجاب اسمبلی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد اس قانون کو پارلیمنٹ صوبائی اسمبلی میں بھی منظور کرا کر یقینی بنائے اور پولیس کو بھی عمل در آمد کے احکامات دیے جائیں۔

پر رابطہ کریںinfo@poda.org.pkمزید معلومات کے لیے ادارہ پودا سے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*